بھٹکل 18 فروری (ایس او نیوز) بھٹکل کے مولانا آزاد روڈ پر رہنے والے محمد ناصرخلیفہ مستان (35) کی مشکوک حالت میں لاش برآمد ہوئی تھی، جس کے تعلق سے اُس کی بیوی ریشما خانم کا کہنا تھا کہ ناصر نے خود اپنے گلے میں دوپٹہ ڈال کر اپنا ہی گلا گھونٹ کر خودکشی کی ہے، مگر یہ بات کسی کے حلق میں اُترنہیں رہی تھی اور لوگ اس بات پر شبہ کا اظہار کررہے تھے کہ کوئی خود اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کیسے کرسکتا ہے۔ اس تعلق سے پولس جو ابتداء میں نہایت سردمہری کے ساتھ کام کررہی تھی ، مقامی قومی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے ذمہ داران کی اعلیٰ پولس حکام سے ملاقات کے بعد نہایت مستعد ہوگئی اور ناصر کی اہلیہ ریشما خانم سے سختی کے ساتھ پوچھ تاچھ کی تو اُس نے مبینہ طور پر بالاخر قبول کرلیا کہ اُسی نے اپنے شوہر کا قتل کیا ہے۔
ریشما خانم (30) جس کا تعلق شموگہ سے ہے، بھٹکل کے مکانوں میں صاف صفائی کا کام کرتی تھی، قریب چھ سال قبل بھٹکل کے برتنوں کی ایک دکان میں ملازمت کرنے والے محمد ناصر خلیفہ مستان کے ساتھ اس کے تعلقات قائم ہوئے، جس کے بعد ان دونوں نے شادی کرلی ۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی، جس کی بنا پر ایک بچی کو انہوں نے گود لیا تھا، جس کی عمر اب تین سال ہے۔ شادی کے بعد سے یہ لوگ مولانا آزاد روڈ پر واقع ایک بڑی حویلی نما بنگلا میں رہ کر بنگلہ کی رکھوالی بھی کرتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ کچھ ماہ قبل ناصر کی کسی اور لڑکی کے ساتھ دوستی ہوگئی اور اُس نے قریب ڈیڑھ ماہ قبل گلمی کی رہنے والی بی بی ریشما کے ساتھ شادی کرلی۔ دوسری شادی سے ناراض ریشما خانم کا ناصر سے بار بار جھگڑا شروع ہوگیا، جو بعد میں اتنا بڑھ گیا کہ بیوی نے غالباً پہلے اُسے نیند کی گولیاں کھلائیں، پھر جمعہ قریب بارہ بجے ناصر کو مبینہ طور پر گہری نیند کی حالت میں ماردیا۔ ریشما خانم نے مبینہ طور پر پولس کو بتایا کہ اُس نے نیند کی حالت میں ناصر کے گلے میں دوپٹہ ڈال کر اُس کا گلا گھونٹ دیا تھا، جس کے نتیجے میں اُس کی موت واقع ہوگئی۔


ناصر کی سانس رُکتے ہی اُس نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو خبر کی کہ ناصر نے خودکشی کرلی ہے، ریشما خانم کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ اُسے ریشما کے خالہ زاد بھائی نے فون کرکے فوری ریشما کے گھر آنے کے لئے کہا، جب وہ وہاں پہنچا تو ناصر پلنگ پر پڑا ہوا تھا اور اُس کی سانسیں نہیں چل رہی تھی، اُس نے اُسے ہلاکر دیکھا، مگر اُسےلگا کہ وہ فوت ہوچکا ہے، اس نوجوان کے مطابق اُس نے فوراً ایمبولنس منگواکر ناصر کی لاش کو سرکاری اسپتال پہنچایا۔ نوجوان کے مطابق ناصر کی پہلی بیوی ریشما نے سب کو یہی بتایا تھا کہ ناصر نے اپنے ہی گلے میں دوپٹہ ڈال کر خود کا گلا گھونٹ کر خودکشی کی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی کافی لوگ بھٹکل سرکاری اسپتال کے باہر جمع ہوگئے، آناً فاناً میں ناصر کے بھائی اور بہنیں بھی اسپتال پہنچیں، جنہوں نے بتایا کہ ناصر نے اپنا گھر چھوڑ کر اپنی مرضی سے ریشما سے شادی کی تھی اور بالاخر اُس کی بیوی نے ہی اُسے اپنے آخری انجام تک پہنچایا، بعد میں اُس کی دوسری اہلیہ بی بی ریشما بھی اسپتال پہنچی جس نے بتایا کہ ناصر نے اُسے بتایا تھا کہ شادی کے بعد سے اُسے اُس کی پہلی بیوی بہت زیادہ تنگ کررہی ہے اورگھر پر ہرروز مارپیٹ کر رہی ہے۔ اُس نے یہ بھی بتایا تھا کہ شادی کے بعد سے پہلی بیوی نے ناصر کا جینا دوبھر کردیا ہے۔
اس دوران جب پولس ٹیم موقع پر پہنچی تو گھروالوں سمیت اسپتال میں موجود کافی لوگوں نے پولس والوں کو بتایا کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ سیدھا سیدھا قتل کا معاملہ ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ ناصر نے خودکشی نہیں کی ہے۔ عوام کا کہنا تھا کہ کوئی اپنا ہی گلا گھونٹ کر خودکشی کیسے کرسکتا ہے ؟ عوام کی شکایت پر پولس نے ریشما خانم کو اپنے ساتھ پولس تھانہ لے گئی، جہاں ناصر کے بھائی اور بہنوں نے بھی اپنے بیانات دئے، مگر اس تعلق سے لوگ پولس کے کردار پر شکوک کا اظہار کررہے تھے کہ کہیں پولس بھی ریشما خانم سے ملی ہوئی نہیں ہے ؟ واقعے کی جانکاری ملتے ہی قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے جنرل سکریٹری محی الدین الطاف کھروری اسپتال پہنچے اور تمام لوگوں سے بات چیت کی اور لاش کا معائنہ کرنے کے بعد بھٹکل سرکل پولس انسپکٹر سریش نائک سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اُنہیں یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل کا معاملہ لگ رہا ہے لہٰذا اس کی باریک بینی کے ساتھ چھان بین ہونی چاہئے۔اس دوران گھروالے جو ریشما خانم کے خلاف شکایت درج کرنے پولس تھانہ پہنچے تھے، نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اُن سے کہا جارہا ہے کہ وہ کیس درج نہ کرے کیونکہ کیس درج کرنے کی صورت میں کافی پیسوں کی ضرورت پڑے گی اور سب کام کاج چھوڑ کر عدالت کے چکر کاٹنے پڑیں گے ، ناصر کے بھائی بہنوں کے مطابق وہ نہایت غریب ہیں اور محنت مزدوری کرکے بڑی مشکل سے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔
تمام حالات پر نظر رکھتے ہوئے شام کو تنظیم کے ایک وفد نے تنظیم نائب صدر عنایت اللہ شاہ بندری کی قیادت میں بھٹکل ڈی وائی ایس پی مسٹر شیوکمار سے ملاقات کی اور واقعے کی سختی کے ساتھ جانچ کرنے کا مطالبہ کیا اور گھروالوں کی جانب سے دی جارہی شکایت کو قبول کرنے کی درخواست کی۔ ڈی وائی ایس پی کا حکم ملتے ہی پولس مستعد ہوگئی اور ناصر کی پہلی بیوی ریشما خانم سے سختی کے ساتھ سوالات کرنے شروع کردئے تو اُس نے اپنی کہانی بیان کردی اور پولس کے ایک ذرائع کے مطابق اُس نے خود قبول کیا کہ ناصر کی دوسری شادی سے پریشان ہوکر اُسی نے اپنے شوہر کا گلا گھونٹ کر قتل کیا تھا۔
مہلوک ناصر کے بھتیجے عثمان غنی مستان کی شکایت پر ٹاؤن پولس تھانہ میں ریشما خانم کے خلاف معاملہ درج کرلیا گیا ہے اورپولس نے ریشما خانم کو گرفتارکرلیا ہے۔ مزید چھان بین جاری ہے۔ اس موقع پر APCR کے ضلعی جنرل سکریٹری قمر الدین مشائخ نے ناصر کے گھروالوں کو مکمل طور پر قانونی رہنمائی کی ہے اورAPCR کی جانب سے ہرممکن تعائون دینےکا یقین دلایا ہے۔
دیر رات کو پوسٹ مارٹم کے بعد ناصر کی لاش لواحقین کے حوالے کردی گئی، رات قریب دو بجے خلیفہ جامع مسجد میں ناصر کی نماز جنازہ اد ا کی گئی اور پرانے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔
متعلقہ واقعے پر پہلے شائع شدہ رپورٹس: